فلسفہ قربانی – ماریہ عمران

قربانی چ حروف پر مربوط میختصر سا لفظ عربی زبان کے لفظ قربان سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی کافی گہرے ہیں ؛ جیسے کہ اپنی عزیز ترین ملکیت کو خود سے جدا کرنا یا نثار کر دینا۔ قربانی کا مذہبی مفہوم نا صرف یہ ہے کہ خوشنودی خداوند تعالی کی خاطر سنت ابراہیمی کو حیات جاویداں کا عملی جامہ زیب تن کروایا جائے بلکہ اس جانثاری ، وارقلی اور عقل کو دنگ کر دینے والی مثال میں نوع انسانی کیلئے تمام تر مادیت پسندی کو بالائی طاق رکھ کر عشق حقیقی کو اولین ترجیح دینے کا انمول سبق بھی ملتا ہے ۔ جب حضرت ابراہیم اور ان کے لخت جگر ، حضرت اسماعیل ، نے کمال اطاعت کا مظاہرہ کرتے ہوۓ رضاۓ الہی کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اپنا سرتسلیم خم کر دیا تو عالم دو جہاں کی محبت ورحمت ٹھاٹھیں مارنے گئی ۔ اللہ نے ان کے اس فعل کو قبول فرمایا اور حضرت اسماعیل کے متبادلے میں ایک مینڈھا بھیجا گیا جسے حضرت ابراہیم نے اللہ کی راہ میں ذبح کر دیا۔ عصر حاضر کے تمام صاحب حیثیت مسلمان خلیل اللہ کے جذبہ ایثار سے لبریز اور ذبیح اللہ کی غیر مثالی فرمانبرداری کی تقلید و پیروی میں ہر سال۱۱،۱۰ اور ۱۲ ذی الحجہ کے موقع پر عیدالانی کا تہوار منا کر اپنا فریضہ سرانجام دیتے ہیں ۔ موجودہ دور میں جب ہر دوسرا شخص احساس کمتری جیسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہے اور اپنی تسکین کی خاطر دکھاوا کر کے برتری محسوس کرتا ہے ، قربانی کی اہمیت اکثر و بیشتر نظرانداز کر دی جاتی ہے اور ظاہری نمود و نمائش غلبہ پا جاتی ہے ۔اپنی مالی حیثیت سے کہیں بڑھ کر صرف کرنا اورمحض ساجی وقار و مقام کو لوظ خاطر رکھنا قربانی کا گوہر مقصود ہر گز نہیں ۔ اپنی حیثیت کے مطابق اور جذ بہ وفلسفہ قربانی کو مدنظر رکھتے ہوۓ اللہ کی اطاعت و خوشنودی کے حصول کیلئے اس عمل کو دہرانا ہی درست معنوں میں قربانی کی مبارک سنت پرمل پیرا ہونا ہے ۔

ارشاد باری تعالی ہے کہ: ہرگز نہ تو اللہ کوان ( قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون مگر اسے تمہارا تقولی پہنچتا ہے (سورۃ الحج ۲۲:۳۷) قربانی کے فلسفے کا اطلاق ہماری سماجی زندگی میں بھی بے حد کارآمد ہے ۔ انسانی جبلت میں پنہاں منفی رحجانات کی حوصایکنی اور انسان کو ایک مثالی مخلوق بنانے میں قربانی کے فلسفے کی اہمیت مسلم ہے۔ دوسروں کی مسرت وراحت کیلئے اپنا تھوڑ اسا وقت یا مال خرچ کر کے انسان ذہنی سکون واطف جیسے جذبات سے تو سرشار ہوتا ہی ہے، جو اس کی شخصیت میں مثبتیت کا نکھار پیدا کرتے ہیں ، مزید یہ کہ انسانی ضمیر بھی اپنے خالق و مالک کے قرب سے مالا مال ہو جا تا ہے ۔ معاشرے کے سفید پوش اور معاشی لحاظ سے کم قسمت حلقے بھی عید کی ان خوشیوں میں ساجھے دار بن جاتے

ہیں جن کی وہ آرزو رکھتے ہیں ۔ بین المذ ہب اور بین السماجی و معاشرتی ہم آہنگی و احترام کیلئے قربانی کی اہمیت کو بہتر طریقے سے باور کروانا اور اس کے بیچ مفہوم سے سیکھنا انتہائی ضروری ہے تا کہ محض نمائش اور دکھاوے کے طور پر اس کا اہتمام کرنے سے گریز کیا جائے ۔ موجود و مذاہب و معاشرات میں برائی کی وجوہات میں سرفہرست مال ومتاع کی بے پناہ محبت ہے ۔ ایسے معاشرے میں ہند بہ قربانی کی فروغیت کو اجاگر کرنے سے جب یہی رقم راہ خدا میں قربانی کی غرض سے جانور خرید کر صرف کی جاتی ہے تو انسان کے دل میں موجودہ مادیت پسندی کے بت پر زور دار ضرب لگتی ہے ۔اس کے علاوہ قربانی کے جانور کی دیکھ بھال کے دوران اس سے ہو جانے والی مانوسیت کے باوجود اسے اللہ کی راہ میں قربان کر کے یہ جذ بہ ولولہ پروان چڑھتا ہے کہ اپنی عزیز ترین چیز سے اللہ کی خاطر کیسے دستبردار ہوا جاۓ ۔ قربانی کے گوشت کی ایک تہائی تقسیم غرباء ومساکین اور ایک تہائی تقسیم رشتہ داروں میں کرنے سے ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کیلئے الفت ومحبت پینے لگتی ہے اور ایک بہتر معاشرہ وجود

میں آ تا ہے۔ قربانی کا فلسفہ انسان کو یہ یاد دہانی کرواتا ہے کہ دنیاوی زندگی عارضی ہے اور ایک دن اسے اس دار فانی سے کوچ کر جاتا ہے لحاظہ روز حشر اس کے عمل وقول کی باز پرس ہونی ہے ۔ یہ اسی فلسفے کی فضیلت ہے کہ ایک انسان جو دل میں خوف خدا رکھتا ہے اور اس دنیا کو آخرت کی کھیتی سمجھتا ہے وہ راہ حق میں کچھ بھی شار کر نے سے دریغ نہیں کرتا اور اس دنیا میں ایک بہترین فرد، کنبہ، خاندان ،قوم اور ولن کو تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ اس کر دارش کو اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کیلئے امن وسکون اور

عظمت کا گہوارہ بنا تا ہے ۔ بعض ناقدین مذہب با هموم اور ناقدین اسلام بالخصوص مغربی معاشرے، جانوروں کی قربانی کو ایک سفاک عمل گردانتے ہیں اور یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ جانوروں سے محبت کی جائے اور انہیں قربان نہ کیا جائے ۔ دوسرا اعتراض ناقدین اسلام ہی کر تے ہیں کہ جور و پیہ جانوروں کی خریداری پر خرچ ہو فضول خرچی کا نعم البدل ہے اس پیسے سے براہ راست غرباء کی امداد کر نا زیادہ عظیم ہے ۔ تاہم یہ اعتراضات بے حد ضعیف اور کم مطالعہ برائے اسلام کے روشن عکاس ہیں جن کا بڑا نسلی بخش جواب دیا

جاسکتا ہے۔ قدرت نے کائنات کا وجودا یک توازن کی حالت میں برقرار رکھا ہے اس نظام میں اگر رخنہ ڈالا جائے تو یہ اس طرح بکھرتا ہے کہ اسے سنبھالنا مشکل ہو جا تا ہے ۔ تمام حلال جانوروں کی افزائش نسل اس طرح ہوتی ہے کہ ان کی قلت واقع نہیں ہوتی اور انسان کی بہتر جسمانی نشونما کیلئے بھی بہترین حیا تین الحیات وغیرہ میسر آتے ہیں جو ہماری غذا کو درکار ضروری تو از ان فراہم کرنے کے ساتھ ہمیں غیر متوازن غذا کی مرہون منت ہو نے والے امراض سے بھی بچاۓ رکھتے ہیں ۔ مزید یہ کہ اسلامی طریقہ ذبیحہ قربانی کے جانور کیلئے سب سے کم تکلیف دہ ہے: جانوروں سے قبل قربانی شفقت کا برتاؤ کرنے کی ترغیب ، تیز دھار چاقو کا استعمال اور دوسرے جانوروں کے سامنے قربانی کرنے کی ممانعت اس کے چند نکات ہیں

غرباء کی فلاح و بہبود کے عزم سے رقم تقسیم کرنے کا بھی اسلام میں پہلے سے مکمل ومربوط نظام زکوۃ “ موجود ہے ۔ چنانچہ قربانی کی رقم کو اپنے طے کردہ مقاصد کے تحت خرچ کرنا ہی بہترین عمل ہے ۔ کیونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اپنے وعد ہ شد و ثمرات پہنچانے کیلئے اپنے شعائر پر انحصار کرتا ہے نیز ان شعائر کی پاسداری کرتے ہوۓ حقیقی فلسفہ قربانی کو یادرکھنا نہایت لازم ہے ۔

Share with friends and family